سولیا ،21؍ اگست (ایس او نیوز)ہندو جاگرن ویدیکے کے کارکنان نے بنگلورو جانے والی بس میں مسلم لڑکے کے ساتھ غیر مسلم لڑکیوں کے سفر کا شبہ ظاہر کرتے ہوئے بس کو روک کر پوچھ تاچھ کی پھر پولیس کی مداخلت کے بعد ان مسافروں کو جانے دیا گیا ۔
موصولہ رپورٹ کے مطابق یہ واقعہ جمعرات کی شب میں پیش آیا ۔ جب بنگلورو کی رہنے والی دو نوجوان لڑکیاں سولیا سے بنگلورو جانے والی بس میں سوار ہوگئیں ۔ اسی بس میں نوشاد نامی ایک نوجوان بھی سفر کر رہا تھا اور ان لڑکیوں کی بازو والی سیٹ پر بیٹھا تھا ۔ بس میں موجود کسی دوسرے مسافر نے ہندو جاگرن ویدیکے کے رضاکاروں کو اطلاع دی کہ بس کے اندر غیر مسلم لڑکیاں موج مستی کے لئے مسلم لڑکے کے ساتھ سفر کر رہی ہیں ۔ اس کے بعد پتور سے تعلق رکھنے والے ایچ جے وی کے پانچ چھ نوجوانوں نے بس کا پیچھا کیا اور آنے گنڈی کے مقام پر بس کو روک لیا ۔ انہوں نے لڑکیوں اور لڑکے سے پوچھ گچھ شروع کی جس کے بعد معاملہ سولیا پولیس اسٹیشن کے سپرد کیا گیا ۔ پولیس اسٹیشن میں تفتیش سے پتہ چلا ہے کہ وہ دونوں لڑکیاں ہندو مذہب تبدیل کرکے مذہب اسلام میں داخل ہوچکی ہیں ۔ اس کے بعد ان لوگوں کو جانے دیا گیا ۔